بی این ایم ماہ مئی رپورٹ: 70 سے زائد فوجی آپریشن،11 افراد قتل، 51 افراد لاپتہ، درجنوں گھر نذرآتش

بی این ایم ماہ مئی رپورٹ: 70 سے زائد فوجی آپریشن،11 افراد قتل، 51 افراد لاپتہ، درجنوں گھر اور وسیع پیمانے پر جنگلات نذرآتش،


بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی مداخلت ناگزیر بن چکا ہے۔ دل مراد بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکریٹری بی این ایم

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ نے مئی کے مہینے کا تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس مہینے میں بھی بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی اور جارحیت عروج پر رہی۔ اس مہینے میں پاکستانی فوج کی جانب سے 70 سے زائد فوجی آپریشن اور چھاپوں میں11 افراد قتل ہوئے۔ ان میں سے 4 افراد فوج نے اور 5 افراد فوجی ڈیتھ سکواڈ اور دو افراد پولیس نے قتل کئے۔ مئی کے مہینے کے میں 51 افراد پاکستانی فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے۔ بلوچستان کے طول وعرض میں جاری آپریشنوں میں 30 سے زائد گھروں کو نذرآتش کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں 12 افرادقتل ہوئے جن کی محرکات معلوم نہ ہوسکے جبکہ 16 افراد پاکستانی عقوبت خانوں سے بازیاب ہوکر گھر پہنچے۔

دل مراد بلوچ نے کہا مئی کے مہینے میں پاکستانی فوج نے بولان اور کیلکور میں وسیع پیمانے پرجارحیت کی۔ پنجگورکے علاقے کیلکور میں دو اور لک پاس کوئٹہ میں ایک نہتے شخص کوپاکستانی فوج نے براہ راست فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ جبکہ ایک سرمچارفوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوا۔ دیگر دو سرمچاراور بلوچ نیشنل موومنٹ کے کارکنوں کے دو قریبی رشتہ داروں کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے ہدف بناکر قتل کیا۔ اسی مہینے مشکے سے یہ ہولناک خبر سامنے آئی کہ اسی سال جنوری میں پاکستانی فوج کے ڈیتھ سکواڈ نے تین خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس خبرکو میڈیا کے سامنے لانے کی جرم میں پاکستانی فوج نے متاثرہ خاندان کے لوگوں پر ظلم وستم کے نئے سلسلے شروع کئے۔

انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں پاکستانی فوج نے بولان، کیچ، آواران، مشکے، پنجگور، مستونگ اور کوہلو سمیت مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج نے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری رکھے۔ پنجگور کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج نے پھیش اور جنگلی زیتون سمیت دیگر درختوں کے جنگلات نذرآتش کیے۔ مختلف علاقوں میں لوگوں کے گھروں کو لوٹنے کے بعد نذرآتش کردیا گیا۔

دلمراد بلوچ نے کہا کہ مئی کے مہینے میں آواران میں اپنی بیٹی کی شادی ایک جہدکار کے ساتھ طے کرنے کی پاداش میں پاکستانی فوج نے ہارونی ڈن کے رہائشی معزز شہری نورجان ہارون کو بیٹے اور ایک اوررشتہ دار کے ساتھ اٹھا کر فوجی کیمپ لے گیا۔ وہاں ان پر بے جاء تشدد کی گئی۔ نورجان کو دھمکی دی گئی کہ وہ اپنی بیٹی کو فوجی کیمپ میں پیش کریں۔ نورجان کو شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا کہ اپنی بیٹی کو پاکستانی فوجی کیمپ میں پیش کرے۔ اگلے دن نورجان نے خود کو کجھور کی درخت پر لٹکا کر خودکشی کرلی۔ ہم اسے قتل سمجھتے ہیں۔ قابض فوج بلوچ قوم کی ثقافت اور نفسیات سے نابلد ہے۔ ان کی جانب سے ایسے مطالبہ پر نورجان نے اپنی زندگی ختم کرنا بہتر سمجھا۔ نورجان نے قابض فوج کو پیغام پہنچایا کہ وہ سات دہائیوں کے قبضے کے باوجود ابھی تک بلوچ قومی مزاج کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ دراصل بلوچ اور نام نہاد پاکستانی قوم کی نفسیات اور ثقافت ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں اور ان کا ضم ہوجانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے بلوچ قوم سات دہائیوں کی طویل جدوجہد آزادی میں برسرپیکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے ٹارچرسیلوں میں 11سال سے قید جوانسال بیٹوں فدا احمد اور ضیااللہ کے بزرگ والد حاجی عبداللہ قلندرانی طویل انتظار کے بعد انتقال کرگئے۔ بلوچستان میں ایسے سینکڑوں کہانیاں موجود ہیں کہ ماں، باپ، بہن، بھائی اور بیویاں اپنے پیاروں کی طویل انتظار سے تھک ہار کر دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا انتظارختم نہ ہوسکا۔

دلمراد بلوچ نے کہا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بربریت اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ یہاں ایک باقاعدہ انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ اگر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے اداروں نے بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس نہیں لیا تو پاکستان بنگلہ دیش سے کئی درجہ بدتر نسل کشی کرنے سے نہیں کترائے گا۔

ذیل میں مئی میں ہونے والی تمام واقعات کا تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

1مئی 2021

۔۔۔ کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے کلگ میں پاکستانی فوج نے چھاپہ مارکر تین سگے بھائیوں ندیم، نسیم اور شوکت ولد سعید سکنہ بدرنگ کولواہ کو حراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا ہے۔

۔۔۔گوادر کے علاقے کلانچ سے رواں سال 11 مارچ کوپاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ طالب علم چراگ بلوچ ولد مراد بخش بازیاب ہوگئے۔

۔۔۔ کیچ سے پاکستانی فوج ڈیتھ سکواڈکی مددسے دو افراداسماعیل ولد داد کریم سکنہ دازن اور منہاب ولد علی سکنہ دازن کو حراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا۔ خیال رہے کہ مذکورہ نوجوانوں میں سے مہناب کو فورسز نے اس سے پہلے بھی دو دفعہ حراست میں لے کر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے چھوڑ دیا تھا جبکہ ایک بار پھر اسے حراست میں لے لاپتہ کردیا گیا ہے۔

3 مئی 2021

۔۔۔ پنجگور میں پاکستانی فوج کے آلہ کاروں نے بی این ایم کے سینئر کارکن عارف بلوچ اوربشیربلوچ کے قریبی رشتہ دارامیرعلی بخش اور بلوچ جہدکار اور شاعرفضل شیر کے بڑے بھائی خان جان شادکوہدف بناکرقتل کردیا۔خان جان بلوچ کو پاکستانی فوج 2017کو حراست میں لے کر تین سال تک اذیت گاہوں میں تشددکانشانہ بنانے کے بعد رہاکردیا تھا۔

4 مئی 2021

۔۔۔قلات کے علاقے ہربوئی روڑ سے پاکستانی فوج نے ایک نوجوان فٹ بالرصدام بلوچ کوحراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔ کوئٹہ سے گذشتہ سال 14 فروری کوپاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ حزب اللہ قمبرانی بازیاب ہوگئے۔

۔۔۔ کیچ،تمپ کے علاقے مزن بند اور گردنواح میں گذشتہ روز سے پاکستانی فوج کا آپریشن کا آغاز،فوج کے ہمراہ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔

۔۔۔ قلات کے پہاڑی علاقے ناگاہو میں فوجی آپریشن۔ جوہان سے ناگاہو کی جانب سے پاکستانی فوج کی فوج کی گاڑیوں اور موٹر سائیکل پر مشتمل بڑے قافلے حصہ لے رہاہے جبکہ دوجنگی ہیلی کاپٹربھی اس آپریشن میں شامل ہیں۔

۔۔۔کوئٹہ،پاکستانی فوج کے ہاتھوں 17 جون 2016کوجبری لاپتہ عیسیٰ خان مری ولد تیمر خان حراست سے بازیاب ہوگئے۔

5 مئی 2021

۔۔۔ خاران سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں دس ماہ قبل جبری عمران اللہ ولد انعام اللہ محمودزئی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

6 مئی 2021

۔۔۔ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر پولیس نے ایک گاڑی پر فائرنگ کرکے فیضان جتک ولد میر دادمحمد جتک نام کے شخص کو قتل کردیا۔

۔۔۔پنجگور رخشان کور سے گل شیر ولد عبدالباقی سکنہ سوردوکی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے جنہیں ریاستی ڈیتھ اسکواڈنے اٹھاکر ایک دن لاپتہ رکنے کے بعدقتل کردیا۔

۔۔۔۔ تربت سے 31مارچ کوپاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ فیصل ولد علی محمد اور سہیل بلوچ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

7 مئی 2021

۔۔۔کوئٹہ سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں گذشتہ سال 14فروری کو جبری لاپتہ حسان قمبرانی سکنہ کلی قمبرانی بازیاب ہوگئے۔

کراچی بحریہ ٹاون نے بلوچ علاقوں پرقبضے کے دوران سندھ پولیس نے فائرنگ کرکے شوکت بلوچ کوقتل کرکے متعدد لوگوں کے زخمی کردیا۔

۔۔۔۔ نواب خیر بخش مری کی بھتیجی صالحہ مری نے بتائی ہے کہ اس کے شوہر تاج محمد سرپرہ ریاستی اداروں کی تحویل میں ہے۔صالحہ مری کے مطابق ان کی شوہر ایک کاروباری شخص ہیں، پچھلے سال 16 جولائی کو وہ بیرون ملک سے کراچی پہنچے اور 19 جولائی کو ترکی جانے کے لیے کراچی ایئرپورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں اور ان کے ڈرائیور کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا اور ہمیں ان کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاری ہے-

۔۔۔بلوچستان کے علاقے ہرنائی سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ محمد عرف پٹو چھلگری مری اور اعظمو لانگانی مری عقوبت خانوں سے بازیاب ہوگئے۔

8 مئی 2021

۔۔۔۔ جنوری 2021 میں مالدار حکیم سکنہ جکو مشکے کے خاندان کی تین خواتین کے ساتھ پاکستانی فوج کے اہلکار اور ان کی پشت پناہی میں ڈیتھ اسکواڈ کارندوں نے شیرا ولد احمد، خداداد ولد عبدالکریم اور دیگر نے جنسی زیادتی کی۔

۔۔۔ بولان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کی آپریشن،ناگاؤ،دلبند،اسپلنجی، جوہان اور منگچر کے اطراف بڑی تعداد پاکستانی فوجی اہلکار پہنچ گئے ہیں اور جگہ جگہ چوکیاں قائم کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کو فضائیہ کی بھی مدد حاصل ہے۔

۔۔۔ کیچ کی علاقے تمپ کے گاؤں نذرآباد میں پاکستانی فوج نے گھروں پر مارٹر گولے داغے گئے اور گھروں کے اندر فلم برداری کے لیے ڈرون استعمال کیے۔ آبادی پر داغے گئے 2 راکٹ عیدگاہ کے قریب مسجد پر گرے جس سے مسجد کی دیوار، وضوخانہ، پانی کی ٹینکی، پائپ لائن اور بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچاجبکہ دو راکٹ غلام نبی ولد رسول محمد کے گھر کے صحن سے 15 فٹ کے فاصلے پر گرے، صحن میں لوگ سوئے ہوئے تھے جو بال بال بچ گئے مگر قریب کے کجھوراور آم کے درخت جل گئے۔

۔۔۔ کوئٹہ سریاب سے ڈیڑھ سال قبل پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ میر احمد بنگلزئی سکنہ اسپلینجی ضلع مستونگ بازیاب ہوگئے۔

9 مئی 2021

۔۔۔کیچ کے تحصیل بلیدہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کرکے ایک نوجوان یاسر ولد ظفر امام سکنہ میناز قتل کردیا۔یاسرظفر کراچی میں زیر تعلیم تھا اور عید کی چھٹیاں منانے آبائی علاقے آیا تھا۔

10 مئی 2021

۔۔۔زامران میں بلوچ ری پبلیکن آرمی کے اہم کمانڈر اور کہنہ مشق بلوچ سرمچار ماما بگٹی اور شکیل عرف اسد سکنہ پل آباد تمپ کوریاستی ایجنٹوں نے قتل کردیا۔

۔۔۔ مستونگ ساڑھے تین سال قبل پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ حا فظ صدام حسین رودینی ولد حاجی خان محمد سکنہ کلی موبی رودینی گرگینہ تحصیل کردگاپ بازیاب ہوگئے۔

۔۔۔3 اکتوبر 2020 سے لاپتہ قبائلی شخصیت حاجی عرب محمد حسنی سکنہ چاغی بازیاب ہوگئے،

۔۔۔کیچ کے علاقے تمپ اورمزن بند میں پاکستانی فوج نے بڑی تعداد میں آمدورفت کے تمام راستوں پرناکے لگاکر آپریشن کاآغازکردیاہے۔فوج نے نیمگو، کروسی کور، موکاندر، گندادر، مزاتی، ریک گاؤں، گوَک اور کترینز فوج کے محاصرے میں ہیں۔

11 مئی 2021

۔۔۔بولان کے مختلف علاقوں جوہان، نرمک، گز، گسارو، تیرکش، کچھی، پانچ، سنی شوران اور تخت سمیت گردونواح میں پاکستانی فوج وسیع پیمانے پر بربریت میں مصروف ہے۔دودرجن سے زائد گھروں کو نذرآتش کیاگیاہے اورسینکڑوں مال مویشی لوٹے گئے ہیں۔

13 مئی 2021

۔۔۔قلات کے علاقے جوہان میں پاکستانی فوج نے ایک نوجوان آزاد خان ولد عبد الباقی کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔پنجگورکے علاقے تسپ سرے قلات سے مجاہدنامی شخص کی بوری بند لاش برآمد ہوئی۔محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

۔۔۔پنجگور کے علاقے وشبود میں کھجور کے باغات سے درخت سے لٹکتی ہوئی لاش برآمد ہوئی ہے۔شناخت اورہلاکت کے محرکات معلوم نہ ہوسکے

۔۔۔ پنجگور کے علاقے گرمکان میں نامعلوم مسلح افراد نے عزت اللہ نامی شخص کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔قتل کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

۔۔۔آواران کے علاقے مشکے میں پاکستا نی فوج وسیع پیمانے پرکوہ اسپیت،پتندر و گرد نواع میں آپریشن کاتازہ سلسلہ شروع کیا اوران علاقوں میں پانچ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شدیدشیلنگ بھی کی ہے۔

14 مئی 2021

۔۔۔ بولان کے مختلف علاقوں بزگر، جالڑی اور شاہرگ کے گردونواح پاکستانی فوج وسیع پیمانے پر بربریت کررہاہے۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مختلف مقامات پر شیلنگ کی ہے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوج اتاری گئی جبکہ علاقے میں تازہ دم فوجی دستے پہنچ رہے ہیں۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے گومازی میں پاکستانی فوج نے ایک آپریشن کے دوران ایک بزگ ساٹھ سالہ خدادادسمیت صغیر بلوچ ولد عبدالصمد اور طارق بلوچ ولد لیاقت کوحراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔آواران اورپنجگور کے درمیانی علاقوں سولیر،گچک،سُکن،راغے میں پاکستانی فوج کی آپریشن اورگن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

۔۔۔کیچ کے علاقے مندکے علاقے مہیر پاکستانی فوج نے چرواہا عبدالطیف ولد ولی داد کو حراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا۔عبدالطیف کو اس وقت فورسز نے لاپتہ کیا جب وہ فوجی چوکی کے قریب مویشیوں کے ساتھ گزر رہا تھا۔

15 مئی 2021

۔۔۔بولان کے مختلف علاقوں بزگر، چلڑی، درگ، جالڑی میں پاکستانی فوج کی آپریشن جاری،ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی فوج اتاری جارہی ہے اورگن شپ ہیلی کاپٹرمختلف مقامات پر شیلنگ کررہے ہیں۔

۔۔۔خضدار کے علاقے توتک سے 2011 میں ایک تباہ کن آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ہاتھوں 17افرادکے ساتھ جبری لاپتہ فدا احمد اور ضیاء اللہ کے والد حاجی عبداللہ قلندارنی انتقال کرگئے۔ نوجوان فدا احمد کے بھائی ضیاء اللہ کو ایک سال یعنی 2012بعد جبری طور پر لاپتہ کیا گیاتھا۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے گومازی میں پاکستانی فوج نے بی این ایم کے وائس چیئرمین غلام نبی کے گھر سمیت متعدد لوگوں کے گھروں پر چھاپہ مارکر تورپھوڑکی اہلخانہ پرتشددکی گئی اورچھ افرادقیوم ولد ملا بلال، ثابت ولد ملا بلال، واجو شھبیک ولد دادکریم، ماجد ولد رشید، اسرائیل ولد حسین اور عالم ولد سلام کو حراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے پیدراک سے شناخت الطاف ولد مولابخش نامی شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ ہلاکت کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

۔۔آواران کے علاقے مشکے میں پاکستانی فورسز کی زمینی اور فضائی آپریشن جاری،مشکے سمیت گرد نواح کے تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔

۔۔۔آواران کے علاقے پیراندر اور جھاؤ سے متصل پہاڑی علاقے دراجکور میں زمینی اور فضائی آپریشن بھی جاری ہے۔

۔۔۔ کراچی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے مشکے پاڑا منگھوپیر سے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوا ہے۔ گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت ’عبدالرزاق ولد عبدالمالک‘ کے نام سے ظاہر کی گئی ہے اور اسے بی ایل اے کا کارکن کہا گیا ہے۔

16 مئی 2021

۔۔۔ کیچ کے علاقے تمپ سے پاکستانی فوج نے ایک نوجوان ہلال ولد ہیبتان سکنہ ہشک آباد رودبن کوحراست میں لے جبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔ کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت اورہلاکت کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

۔۔۔پنجگورکے علاقے راگئے اور گچک میں پتندر،گرانڈی،تنک،راگئے،ٹوبہ،سولیر، سکن، ھوند، پیزگ اور ملحقہ علاقوں میں پاکستانی فوج وسیع پیمانے پربربریت کررہاہے۔ کلری راغے سے پاکستانی فوج نے گذشتہ دن 9 سے زائد افراد1۔منظور ولد الہی بخش 2۔ حسن ولد ساسو3۔اجمل ولد الہی بخش4۔ملک داد ولد مزار5۔عیسی ولد مزار7۔جنگیان ولد مزاراور8۔وحید سمیت جنگیان کے دوبیٹوں کو حراست میں لے کرجبری لاپتہ کیا ہے۔

۔۔۔آواران کے علاقے جھاؤ اور مشکے کے درمیانی پہاڑی سلسلے میں پیراندر، دراجکور، کپور، آچڑین اور کلیڑ اورمشکے میں شمال مغربی پہاڑی سلسلے میں مرماسی، بزی، خلوکن،اسپیت،گروکلان،راحت اور زنگ کئی دنوں سے پاکستانی فوج جارحیت میں مصروف ہے۔ ان علاقوں میں زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی مسلسل شیلنگ کررہے ہیں۔

17 مئی 2021

۔۔۔ خاران سے پاکستانی فوج نے دوافراد تنویر سیاپاد ولد ماسٹر مشتاق اور سفیان حسین زئی ولد بابو عبدالرحمن حسین زئی کوحراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔ دونوں افراد پیشے کے لحاظ سے درزی ہیں۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے ملانٹ میں پاکستانی فوج نے داد محمد نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارکر گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر گھروں میں لوٹ مارکی۔دوران چھاپہ فوجی اہلکاروں نے ایک کمسن بچے کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا۔

۔۔۔کیچ کے علاقے مند سے پاکستانی فوج نے عبدالطیف ولد ولی داد کو حراست میں لینے کے بعد حراست کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور اب وہ زخمی حالت میں تربت کے ہسپتال میں فوج کے نگرانی میں زیر علاج ہے۔

18 مئی 2021

۔۔۔کوئٹہ اور خضدار کے علاقے حلوائی کوہ سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئے ہیں جن کا شناخت اورہلاکت کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

۔۔۔ گوادر کے قصبہ پیشوکان کے کنرکی وارڈ میں ایک شخص کو چھ سالہ بچی مسماۃ ’س‘ کے ساتھ زنا بالجبر کی کوشش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایس ایچ او مرکزی پولیس تھانہ گوادر نقیب اللہ شاھوانی نے میڈیا کو بتایا گرفتار ملزم گل شیر ولد محمد حسن بلوچ سکنہ میرپور خاص، سندھ جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد فرار ہوہا تھا جسے واقعے کی اطلاع ملنے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے گرفتار کرلیا۔

۔۔۔سبی کی تحصیل لہڑی کے علاقے گوڑی سے پاکستانی چھاپہ مار کر ھوت ولد رندان،نوکاپ ولد یارو سمیت چار افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔ چھاپے کے دوران خواتین پر تشدد بھی کیا گیا۔

19 مئی 2021

۔۔۔ کیچ کے علاقے پل آباد میں پاکستانی فوج نے ایک گھر پر چھاپہ مارکرچارافرادشعیب، جنید، شے حق ولد تاج محمد اور غفورکر چار افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیاجبری گمشدگی کے شکارافرادمیں تین سگے بھائی اور ان کا داماد شامل ہے۔

۔۔۔کیچ کے علاقے تمپ کوہاڑسے کستانی فوج نے دو افراد بابا ولد عباس اور اصغر ولد عبدالرحمٰن کو حراست میں لیکرجبری لاپتہ کردیا۔

20 مئی 2021

۔۔۔آواران میں اپنی بیٹی کی شادی ایک بلوچ جہدکارسے طے کرنے کے پاداش میں پاکستانی فوج نے نورجان،ان کے جوانسال بیٹے اوران کے ایک قریبی رشتہ دارقادربخش اور نورجان کوحراست میں لے کر فوجی کیمپ منتقل کیا گیا جہاں ان پر انتہائی تشدد کیا گیا،ہولناک تشدد سے نورجان کے دونوں گردے ناکارہ اور ایک پاؤں ٹوٹ گیا۔فوج نے نورجان کو اس شرط پر رہا کہ لڑکی کو کیمپ میں حاضر کیا جائے۔آج علی الصبح نورجان نے ہارون ڈن آواران میں ایک درخت سے لٹک کر خودکشی کی۔ خود کشی سے پہلے انھوں نے پیغام چھوڑا ہے کہ جاکر پاکستانی فوج سے کہہ دیں میں لڑکی آپ کو پیش نہیں کرسکتا اس کے بدلے میں میرا لاش لے کر جائیں۔

21 مئی 2021

۔۔۔کیچ کے علاقے مندملان میں پاکستانی فوج نے ایک نئی کیمپ قائم کی۔

22 مئی 2021

۔۔۔تربت کے مرکزی شہر کیچ سے جہانزیب بلوچ ولد علی بخش سکنہ سنگانی سر تربت کو پاکستانی فوج نے پارک ہوٹل کے سامنے سے 9 مارچ 2021 کی شام 5 بجے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا جس کی اہلخانہ نے آج تصدیق کی ہے۔

23 مئی 2021

۔۔۔آواران کے علاقے جھاؤسے پاکستانی فوج نے ایک نوجوان خلیل ولد عباس سکنہ نرمگی کوکیمپ میں طلب کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کا ایک ہاتھ ٹوٹ گیا۔تشدد کرنے کے بعد مذکورہ نوجوان کو چھوڑ دیا گیا۔

24 مئی 2021

۔۔۔کیچ کی تحصیل تمپ سے پاکستانی فوج نے مزید 9 افراد1۔ کفا ولد سیٹھ علی2۔ زبیر ولد داد محمد3۔ الطاف ولد سبزل4۔ افضل ولد سبزل5۔ مسلم ولد علی6۔ ایسان ولد حمید7۔عمران ولد نادل قومی8۔ تلال ولد شہید دوست محمداور9۔نائک ولد داد محمدکوحراست میں لے کر جبری لاپتہ کیے۔

25 مئی 2021

۔۔۔کوئٹہ سے پاکستانی فوج نے بلوچ ٹک ٹاکر سمیع بلوچ کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔چاغی کے علاقے لجے کاریز سے آٹھ دن قبل لاپتہ ہونے والے نوجوان طالب علم نسیم ولد حاجی دوست محمد کی بوری بند مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔

۔۔۔ چمن کے علاقے گڑنگ کاریز سے بھی ایک لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت عثمان غنی ولد سلطان کے نام سے ہوئی ہے۔ ہلاکت کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

۔۔۔ جھل مگسی گنداواہ سے نواب ولد رسول بخش کی لاش برآمد ہوئی،ہلاکت کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

۔۔۔کیچ کے پہاڑی سلسلے کلبر میں آج آپریشن کا آغاز کیا ہے، آپریشن میں زمینی فوج کے علاوہ جنگی ہیلی کاپٹربھی حصہ لے رہے ہیں۔

۔۔۔آواران اور مشکے درمیان طویل ندی تنک اوردراسکی اوردراسکی میں گرنے والے دیگر ندیوں جیساکہ پسہیل،ہت ہیل،آعظو، اور گونی کے جنگلات کے وسیع سلسلے کو پاکستانی فوج نے نذرآتش کردیاہے۔ان علاقوں میں جنگی ہیلی کاپٹروں نے مختلف مقامات پر شیلنگ بھی کی ہے۔

۔۔۔پنجگور کے علاقے گچک کے بڑی ندیوں جیساکہ پینکلانچ،جوان تاک،سمیت دوسرے ندی نالوں میں موجود قیمتی درخت گن،زیتون اور مزری (پھیش) کے جنگلات پاکستانی فوج وسیع پیمانے پرجلا رہاہے۔

26مئی 2021

۔۔۔پنجگور کے علاقے سوردومیں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مولانا عبدالحئی ہلاک ہوئے۔محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

27 مئی 2021

۔۔۔پنجگور کے علاقے کیل کور، دشتک، شینزدان، جنچوپ، مادگ اوراورپنجگوراورآواران کے درمیانی علاقے دراسکی، پسیل، کمبیل، چوھر، جکی، زوار دان، ژگردی، انارترکی، سولیر، ترکانی، شورکنڈگ، تنک، چٹوک، آزو، مزید، جوگن، دراجکور، جوانتاک، جوری، مچی، بٹیج اور گردونواح میں پاکستان فوج وسیع پیمانے آپریشن کا آغاز کررہاہے۔ کئی مقامات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کے شیلنگ کررہے ہیں۔آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے یعقوب،اللہ بخش سکنہ کمبیل،سلیم، حسن، دلمراد اور دلدارسکنہ کمبیل اور وشی، بدل، ھتیل اور سخی داد اورقادر بخش سکنہ پسیل کو گھروں کو نذرآتش کردیا۔پنجگورکے علاقے گچک میں عبدالرحمن،سوالی،زواردان،نوکاپ،ولی داد،ملامحمدعیسیٰ سکنہ انارترکی گچگ، اسماعیل سکنہ ڈوُک، پیر محمدسکنہ ترکانی،خان محمد جوری،خیربخش،عباس سکنہ گانڈیل کے گھروں کو بھی پاکستانی فوج نے نذرآتش کردیاہے۔

۔۔۔نوشکی سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں 31 اگست 2018 کو جبری لاپتہ سمیع بلوچ اور عبدالرب بازیاب ہوگئے۔ان لوگوں کو پاکستانی فورسز نے نوشکی کے علاقے زنگی ناوڑ پکنک پر جاتے ہوئے حراست میں لیا تھا جن میں میر احمد سمیع ولد رحمت اللہ، عبدالرب ولد حاجی عبدالمجید، بلال احمد ولد میر احمد بلوچ، عبدالرشید ولد عبدالرزاق اور محمد آصف ولد محمد سمیت دیگر افراد شامل تھے۔

۔۔۔ پنجگور میں پاکستان فوج کی جانب سے گزشتے مہینے سے آپریشن کاسلسلہ جاری،آج فوج پاکستانی فو ج میر شاہو بازار، بکشی بازار اور شیخ ہارون بازار کومحاصرے میں لے کر دوافرادعصاولدمارواوربولاولدمولابخش کوقتل جبکہ چار افراد رحمت ولد احمد، موسٰی ولد محمد، حاصل خان ولد احمد، عیسٰی، بہار ولد نذراور بخشی ولد دیدارکو جبری لاپتہ کردیا۔

۔۔۔ممتازبلوچ جہدکاراوربی ایل ا ے کے کمانڈرمیرعبدالنبی بنگلزئی کوپاکستانی ڈیتھ سکواڈنے شہید کردیا۔

28 مئی 2021

۔۔۔ پنجگور کے علاقے کیلکور دَشتَک، شینزدان، جنچوپ، جَکی، مادگ، عالی ریک، بیرونٹ اور گرد و نواح میں آج دوسرے روز بھی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے کولواہ کے شمالی پہاڑی علاقے ناگ، کُلدان، کاشت اور ھُدال میں پاکستانی فوج وسیع پیمانے پرآپریشن کررہاہے،جس میں لوگوں پر بہیمانہ تشددکی جارہی ہے۔

۔۔۔۔نوشکی کے علاقے گیشنگی سے 28 ستمبر 2018 کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ زکریا مینگل بازیاب ہوگئے۔

۔۔۔بلوچی و براہوئی کے انقلابی گلوکار استاد میر احمد کاپاکستانی فوج کے ہاتھوں 31 اگست 2018 کو لاپتہ بیٹابلال احمد بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا۔جنہیں پاکستانی فوج نے نوشکی کے پکنک پوائنٹ زنگی ناوڑ سے دوستوں کے ہمراہ حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا۔

31مئی 2021

۔۔۔کوئٹہ لک پاس پر پاکستانی فوج کی فائرنگ سے کوچ ڈرائیور جان بحق ہوگیا۔

۔۔۔ پنجگور کے علاقے کیلکور میں قابض پاکستان فوج کے ساتھ جھڑپ میں بلو چ سرمچارحافظ حمیدبلوچ شہید ہوگئے۔جن کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی سے تھا۔

٭٭٭٭

Featured Posts