چیئرمین خلیل بلوچ اور نواب براہمدغ بگٹی کا اشتراک عمل پر بات چیت

October 19, 2016


بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ رییپلکن پارٹی نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ دونوں پارٹی کے سربراہان چیئر مین خلیل بلوچ اور نواب براہمدغ بگٹی کے درمیان اشتراک عمل اوراصولی بنیادوں پر اتحاد و اتفاق کی راہیں ہموار کرنے پر بات چیت

ہوئی ہے۔ 

 

اس ضمن میں دونوں پارٹیوں کے درمیان مزاکرات کا جلد آغاز ہوگا۔ دونوں جماعتیں اپنی مزاکراتی کمیٹیاں تشکیل دیں گے جو

مسلسل گفت و شنید کے ذریعے دونوں پارٹیوں کے درمیان اشتراکِ عمل اور باہمی اعتماد کو تقویت دینے کی کوشش کریں گے۔ 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پارٹیوں کے درمیان اشتراک عمل انقلابی معیاراور برابری کی بنیاد پرقائم ہوگا ۔دونوں پارٹی سربراہان کے درمیان اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ قوموں کے مقدرکا فیصلہ قومی پارٹیاں ہی کرسکتی ہیں، اس لئے قومی تحریک میں شخصی ،گروہی ،غیرجمہوری طرزسیاست کی حوصلہ شکنی کرکے ہم خیال پارٹیوں کے درمیان اتحاداور اشتراک عمل کو اہمیت دی جائے۔ 

اعلامیے میں کہا گیا ہے فرد جتنا قابل یا ایماندار ہو، وہ قومی تحریک کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں موثر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فردی یا گروہی سیاست کے بجائے بلوچ قومی تحریک کو تنظیمی بنیادوں پر مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی تیسری بلوچ قومی پارٹی نظریاتی بنیادوں پر اس اشترک عمل کا حصہ بننا چاہتا ہے تو ہمارے دروازے بات چیت کیلئے کھلے ہیں۔ 

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اتحاد یا اشتراک عمل سے سب کو فائدہ ہے لیکن اگر اتحاد اصولی بنیادوں پر قائم نہ ہو تو اس کا انجام قومی مایوسی ، بد اعتمادی اور انتشار ہوگا۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام بلوچ قوم ایک طرح سوچنے لگے یا پارٹیاں اپنی نظریاتی اقدار کو خیر باد کریں۔ باز گروہوں نے پارٹیوں کی اہمیت کو کم کرنے کی خاطر یہ الزام تراشی شروع کی تھی کہ پارٹی بازی نہیں ہونی چاہیے۔ کون سی قومی تحریک قومی پارٹیوں کے وجود اور جدوجہد کے بغیر کامیاب ہوئی ہے؟ چیئرمین خلیل بلوچ اور نواب براہمدغ بگٹی کے درمیان بات چیت میں اس امر پر زور دیا گیا کہ گروہ بازی یا شخصیت پرستی سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے اور قومی پارٹیوں میں قربت، باہمی احترام اور اشتراک عمل کو تقویت دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج بلوچ قوم کی قربانیوں کی بدولت عالمی رائے عامہ جس تیزی سے ہموار ہورہی ہے اس کا فائدہ اٹھا کر مختلف کردار قومی تحریک کے اندراور بین الاقوامی دنیا میں تحریک کی قیادت و نمائندگی کے لئے میدان میں اُتر رہے ہیں ۔ سلیمان داؤد،منیرمینگل یا محترمہ نائلہ قادری کو فردی حیثیت کے بجائے قومی پارٹیوں میں شامل ہو کر بلوچ مسلہ کو دنیا میں اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فردی سیاست سے غیر سنجیدگی پیدا ہوتی ہے اور کوئی بھی فرد اپنی ذات کو بالا رکھ کر قومی تحریک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قومی تحریک آزادی کی نمائندگی صرف قومی پارٹیاں کرسکتے ہیں اوربلوچ قوم کسی بھی انفرادی یاشخصی حیثیت میں یہ حق تفویض نہیں کرسکتا کہ وہ بلوچ تحریک کی نمائندگی کر ے۔

چیئر مین خلیل بلوچ اور نواب براہمدغ بگٹی کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ ان کی مزاکراتی کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ دونوں پارٹی سربراہان مسلسل رابطے میں رہیں گے تاکہ اشتراک عمل کی راہیں ہموار کرنے میں آسانی اور بدگمنانیوں میں کمی ہو۔

 

 

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Featured Posts

A tale of unending hope and expectations Written by: Sammi Baloch

June 30, 2019

1/10
Please reload

Recent Posts
Please reload

Archive